نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
03037578803
آٹھویں قسط
Xerostomia (زیروسٹومیا)
منہ کا سوکھنا یا خشکیِ دہن
یہ کوئی خود کار بیماری نہیں بلکہ عام طور پر کسی اور طبی مسئلے، دوا کے ضمنی اثر (Side effect)، یا جسم میں پانی کی کمی کی ایک علامت ہوتی ہے۔
علامات:
منہ خشک ہونے کی صورت میں مریض کو درج ذیل علامات کا سامنا ہو سکتا ہے:
منہ اور حلق میں ہر وقت خشکی یا چپچپا پن کا احساس۔
تھوک (Saliva) کا گاڑھا یا لیس دار ہو جانا۔
چبانے، نگلنے اور بولنے میں دشواری ہونا۔
زبان کا سرخ، خشک اور کھردرہ ہو جانا۔
منہ سے بدبو آنا (Halitosis)۔
ہونٹوں کا پھٹنا، خصوصاً منہ کے کونوں کا زخم ہونا۔ کھانے کا ذائقہ تبدیل ہو جانا یا محسوس نہ ہونا۔ مسوڑھوں کی بیماریاں اور دانتوں میں تیزی سے کیڑا (Caries) لگنا۔
وجوہات:
منہ کی خشکی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مثلاً:
بلڈ پریشر، ڈپریشن، الرجی (Antihistamines)، اور درد کش ادویات کا کثرت سے استعمال۔
بوڑھے افراد میں تھوک بنانے والے غدود (Salivary glands) کی کارکردگی کم ہو جانا۔
جسم میں پانی کی مقدار کم ہونا یا شدید پسینہ آنا، الٹی اور دست۔
شوگر (Diabetes)، جوگرن سنڈروم (Sjogren's Syndrome - ایک آٹو امیون بیماری جس میں آنکھیں اور منہ خشک ہوتے ہیں)، اور فالج۔
کینسر کے علاج کے دوران سر اور گردن کی ریڈی ایشن تھراپی (شعاعیں) یا کیموتھراپی۔
تمباکو نوشی، سگریٹ، چھالیہ کا استعمال یا رات کو منہ کھول کر سونا۔
تشخیص :
اس مسئلے کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر درج ذیل طریقے اپناتے ہیں:
میڈیکل ہسٹری:
مریض کی ادویات اور ماضی کی بیماریوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
معائنہ: منہ، زبان اور مسوڑھوں کی خشکی کا مائیکروسکوپک یا ظاہری معائنہ۔
Sialometry:
اس ٹیسٹ کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک مخصوص وقت میں تھوک کے غدود کتنا تھوک بنا رہے ہیں۔
خون کے ٹیسٹ: شوگر یا آٹو امیون بیماریوں (جیسے Sjogren's) کا پتہ لگانے کے لیے۔
بایپسی یا امیجنگ: اگر تھوک کے غدود میں بلاکیج کا شک ہو تو الٹراساؤنڈ یا غدود کا چھوٹا سا ٹکڑا (Biopsy) لے کر ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
علاج:
ہومیوپیتھی میں علامات کی بنیاد پر علاج کیا جاتا ہے۔ زیروسٹومیا کے لیے بہترین ادویات درج ذیل ہیں:
Bryonia Alba (برائیونیا)
منہ، زبان اور حلق میں شدید خشکی، جس کے ساتھ بہت زیادہ مقدار میں اور وقفے وقفے سے ٹھنڈا پانی پینے کی شدید پیاس ہوتی ہے۔ زبان پر سفید تہہ جمی ہوتی ہے۔
Nux Moschata (نکس ماسکوٹا)
منہ میں انتہائی شدید خشکی ہوتی ہے، یہاں تک کہ زبان تالو کے ساتھ چپک جاتی ہے، لیکن حیران کن طور پر پیاس بالکل نہیں ہوتی، مریض کو نیند کا غلبہ رہتا ہے۔
Pulsatilla (پلسٹیلا)
منہ بالکل خشک ہوتا ہے، خصوصاً صبح کے وقت۔ منہ کا ذائقہ تلخ یا خراب ہوتا ہے، لیکن پیاس بالکل غائب ہوتی ہے۔ مریض کھلی ہوا پسند کرتا ہے۔
Arsenicum Album (آرسینک البم)
منہ اور حلق میں شدید خشکی اور جلن کا احساس۔ مریض کو پیاس بہت لگتی ہے لیکن وہ ایک وقت میں صرف ایک ایک گھونٹ پانی پیتا ہے۔ ساتھ میں بے چینی اور خوف پایا جاتا ہے۔
Belladonna (بیلاڈونا)
منہ اور حلق سرخ، گرم اور خشک ہوتے ہیں۔ نگلنے میں شدید تکلیف ہوتی ہے (جیسے گلا بند ہو)۔ تھوک بالکل ختم ہو جاتا ہے اور پانی پینے کی شدید خواہش ہوتی ہے لیکن نگلنا مشکل ہوتا ہے۔
Alumina (ایلومینا)
جسم کی تمام بلغم جھلیوں (Mucous membranes) کی شدید خشکی۔ منہ اتنا خشک ہوتا ہے کہ صبح اٹھتے ہی حلق میں شدید جکڑن محسوس ہوتی ہے۔ پیاس ہو بھی سکتی ہے اور نہیں۔
Mercurius Solubilis (مرک سال)
یہ ایک منفرد دوا ہے۔ اس میں منہ میں تھوک بہت زیادہ بنتا ہے (رال ٹپکتی ہے) اور منہ سے شدید بدبو آتی ہے، لیکن اس کے باوجود مریض کو منہ خشک محسوس ہوتا ہے اور پیاس شدید لگتی ہے۔ زبان پر دانتوں کے نشانات بنے ہوتے ہیں۔
Sulphur (سلفر)
منہ میں خشکی کے ساتھ صبح کے وقت منہ کا ذائقہ بہت کڑوا ہوتا ہے۔ ہونٹ بہت سرخ اور خشک ہوتے ہیں۔ مریض کو ٹھنڈے پانی کی شدید پیاس لگتی ہے اور پاؤں کے تلوؤں میں جلن ہوتی ہے۔
Lycopodium (لائیکوپوڈیم)
منہ خشک ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ منہ سے بدبو اور تیزابیت (Gas/Bloating) کی شکایت رہتی ہے۔ مریض گرم مشروبات یا گرم پانی پینا پسند کرتا ہے۔ علامات شام 4 سے 8 بجے کے درمیان بڑھتی ہیں۔
Natrum Mur (نیٹرم میور)
منہ کی خشکی خصوصاً زبان پر جھاگ دار تھوک یا تھوک کا بالکل نہ ہونا۔ زبان پر "نقشہ" جیسا اثر (Mapped tongue)۔ مریض کو نمک یا نمکین چیزیں کھانے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔
حفاظتی تدابیر :
دن بھر میں کم از کم 8 سے 12 گلاس پانی چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے کر پئیں تاکہ منہ تر رہے۔
سگریٹ نوشی، تمباکو، چھالیہ اور الکحل سے مکمل پرہیز کریں کیونکہ یہ منہ کو مزید خشک کرتے ہیں۔ کافی، چائے اور سوڈا (Caffeine) کا استعمال کم سے کم کریں کیونکہ یہ پیشاب آور ہوتے ہیں اور جسم میں پانی کم کرتے ہیں۔ ہوا کو نم رکھنے کے لیے رات کو کمرے میں Humidifier (ہوا کو نم کرنے والا آلہ) استعمال کریں، خصوصاً اگر آپ منہ کھول کر سوتے ہیں۔
ایسے ماؤتھ واش (Mouthwash) استعمال نہ کریں جن میں الکحل شامل ہو۔
گھریلو ٹوٹکے :
سونف اور چھوٹی الائچی چبانے سے منہ میں تھوک بنانے والے غدود متحرک ہوتے ہیں اور منہ کی بدبو دور ہوتی ہے۔
ادرک کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوسنے یا ادرک کی چائے پینے سے تھوک کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔
روزانہ چوتھائی کپ ایلوویرا کا جوس پینا یا اس سے کلی کرنا منہ کی نمی برقرار رکھنے میں مددگار ہے۔
پانی میں چند قطرے لیموں نچوڑ کر پینے سے تھوک کے غدود متحرک ہوتے ہیں ۔
شوگر فری گم چبانے یا شوگر فری کینڈی چوسنے سے منہ میں مسلسل تھوک بنتا رہتا ہے جو خشکی کو روکتا ہے۔
نوٹ:
علامات کی شدت اور مریض کی انفرادی حالت کے مطابق دوا کی صحیح خوراک (Potency) اور انتخاب کے لیے ہمیشہ ایک مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
یہ نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج کی
آٹھویں قسط ہے اور یہ مضمون ابھی جاری ہے، اگلی قسط انشاءاللہ جلد شیئر کر دی جائے گی،
میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، اس مضمون میں آپ جو کمی بیشی محسوس کریں مجھے ضرور آگاہ کریں اور اگر آپ کے تجربے میں کوئی ایسی میڈیسن ہے جو اس مرض میں بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے تو وہ بھی میرے نمبر 03037578803 پر ضرور شیئر کر دیں، میں آپ کا احسان مند ہوں گاـ
شکریہ
Consult with our Specialists
Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.
Book a Consultation