نیوٹروفیلیا
خون میں نیوٹروفلز (Neutrophils) کی زیادتی کو طبی زبان میں نیوٹروفیلیا کہا جاتا ہے۔ نیوٹروفلز جسم کے دفاعی نظام کا وہ حصہ ہیں جو سب سے پہلے انفیکشن یا چوٹ والی جگہ پر پہنچتے ہیں، اس لیے ان کی تعداد کا بڑھنا عام طور پر جسم میں کسی غیر معمولی سرگرمی کی علامت ہوتا ہے
نیوٹروفیلیا بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک علامت ہے۔ اس کا درست علاج اصل وجہ کی تشخیص کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے، ایک عام بالغ انسان کے خون میں نیوٹروفلز کی تعداد کل سفید خلیات (WBCs) کا تقریباً 40% سے 75% ہوتی ہے۔ اگر اسے فی مائیکرو لیٹر خون کے حساب سے دیکھا جائے تو اس کی نارمل حد
2,500 سے 7,500 نیوٹروفلز فی مائیکرو لیٹر ہے ۔ جب ان کی تعداد 8,000 سے تجاوز کر جائے تو اسے نیوٹروفیلیا کہتے ہیں۔ اس کی مقدار کے لحاظ سے یہ خدشات ہو سکتے ہیں:
ہلکی زیادتی (8,000 - 11,000) شدید جسمانی ورزش، ذہنی تناؤ (Stress)، سگریٹ نوشی، یا معمولی انفیکشن۔
درمیانی زیادتی (11,000 - 20,000)
شدید بیکٹیریل انفیکشن (جیسے نمونیا، اپینڈیسائٹس)، جسم کا جلنا، یا سٹیرائڈ ادویات کا استعمال۔
شدید زیادتی (20,000 سے اوپر) یہ اکثر لیوکیمائڈ ری ایکشن (Leukemoid Reaction) کہلاتا ہے جو شدید انفیکشن یا خون کے کینسر (جیسے CML) کی نشاندہی کر سکتا ہے
نیوٹروفلز کی زیادتی ان بیماریوں کی تشخیص میں مدد دیتی ہے:
انفیکشن نیوٹروفلز کی زیادتی کی یہ سب سے عام وجہ ہے۔ خاص طور پر بیکٹیریل انفیکشن (جیسے نمونیا، پیشاب کی نالی کا انفیکشن یا گلے کا انفیکشن) میں جسم ان جراثیم سے لڑنے کے لیے نیوٹروفلز کی پیداوار بڑھا دیتا ہے۔
جسم کے کسی بھی حصے میں دائمی سوزش نیوٹروفلز کو بڑھا سکتی ہے، مثلاً جوڑوں کا درد (Rheumatoid Arthritis آنتوں کی سوزش (IBD یا Crohn's Disease)،
جسم کا کسی چوٹ یا سرجری کے بعد صحت یاب ہونا۔ جب جسم کے ٹشوز کو نقصان پہنچتا ہے، تو نیوٹروفلز وہاں صفائی اور مرمت کے لیے پہنچتے ہیں- ہمارے جسم کے کسی حصے کا جل جانا۔ دل کا دورہ پڑنے کے بعد دل کے پٹھوں کو پہنچنے والا نقصان نیوٹروفلز کی بڑھوتری کا باعث بنتا ہے
سخت ورزش یا شدید جذباتی صدمہ بھی عارضی طور پر ان کی تعداد بڑھا سکتا ہے۔ کچھ ادویات، خاص طور پر سٹیرائڈز خون میں نیوٹروفلز کی سطح کو بڑھا دیتی ہیں۔
کچھ سنگین حالات میں بھی ان کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے جیساکہ لیوکیمیا Leukemia، خون کے کینسر کی مخصوص اقسام (جیسے CML) میں نیوٹروفلز بہت زیادہ بننے لگتے ہیں۔ پولی سائی تھیمیا ویرا ایک ایسی حالت جس میں ہڈیوں کا گودا (Bone Marrow) ضرورت سے زیادہ خلیات بناتا ہے۔
علاج
اگر نیوٹروفیلیا کے ساتھ بخار اور پیپ (Suppuration) بننے کے رجحانات ہوں، تو ہیپر سلف پائروجینیم اور مرک سال
جیسی ادویات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ بنیادی سوزش اور انفیکشن، اچانک بخار اور بے چینی کے ساتھ شروع ہونے والی سوزش کے لیے ایکونائٹ-
جب متاثرہ جگہ سرخ ہو گرم ہو اور وہاں شدید دھڑکن والا درد ہو تو بیلاڈونا، سوزش کے ابتدائی مرحلے میں جب بخار ہلکا ہو اور خون کے خلیات میں تبدیلی شروع ہو فیرم فاس،
جب سوزش کی وجہ سے حرکت سے درد بڑھے اور پیاس زیادہ لگے تو برائیونیا ۔
پیپ اور شدید انفیکشن ہو تو ہائپر سلف،
جب انفیکشن پیپ بنانے کی طرف مائل ہو اور مریض کو ٹھنڈ بہت لگے ، پرانے انفیکشن اور جسم سے مواد کے اخراج کو بہتر بنانے کے لیےسلیشیا،
منہ کے چھالوں، پسینے اور شدید انفیکشن کی صورت میں مرک سال
جب خون میں انفیکشن (Sepsis) کا خدشہ ہو اور نبض و بخار میں توازن نہ ہوتو پائروجینیم،
خون کی صفائی اور مدافعت کے لیے اکنیشیا بہترین ہے اسے ہومیوپیتھک "اینٹی بائیوٹک" کہا جاتا ہے، یہ مدافعت بڑھانے اور خون کے خلیات کو متوازن کرنے میں مددگار ہے۔
جب کہ بیپٹیشیا ٹائیفائیڈ جیسے بخار اور خون کی خرابی کے لیے بہترین ہے اور گن پاؤڈر زخموں اور خون کے انفیکشن کو روکنے کی خاص دوا ہے، انتھراسینم شدید قسم کے زہریلے پھوڑوں اور انفیکشن کے لیے بہت مفید ہے، اگر نیوٹروفیلیا کسی چوٹ یا جسمانی صدمے کے نتیجے میں ہو تو ارنیکا مفید ہوتی ہے،جب متاثرہ حصہ نیلا یا جامنی پڑ جائے اور خون میں زہریلے اثرات ہوں تو ان علامات میں لیکسس بہت مفید ہے، اگر سوزش کے ساتھ ڈنک لگنے جیسا درد اور سوجن (Oedema) ہو تو ایپس میلفیکا اچھا اثر دکھاتی ہے، اگر علامات میں زیادتی بے چینی گیلے موسم یا مشقت کے بعد ہو تو شفا یابی کے لیے رسٹاکس بہترین اثر دکھاتی ہے،
کمزوری، جلن اور انفیکشن کے ساتھ جب پیاس تھوڑی تھوڑی لگے، بےچینی ہو تو ارسینیکم البم موثر ثابت ہوتی ہے، غدود کی سوزش اور گلے کے انفیکشن کے لیے فائیٹولیکا کا بہت اچھا رزلٹ ہے، جب جلد یا جسم میں پرانی سوزش موجود ہو اور صاف نہ ہو رہی ہو سلفر بڑا اچھا کام کرتی ہے، پیپ والے زخموں کے آخری مرحلے میں جب شفا سست ہو کلکیریا سلف بہت مفید ثابت ہوتی ہے
Consult with our Specialists
Have questions about your health? Our expert homeopathic doctors are here to help.
Book a Consultation